سارک کانفرنس : نواز۔ مودی کی غیر رسمی ملاقات

news-1416983831-8639 وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی کے درمیان نیپال کے شہر کھٹمنڈو میں منعقدہ 18 ویں سارک کانفرنس کے دوران غیر رسمی ملاقات ہوئی ہے۔این ڈی ٹی وی کے مطابق جمعرات کو ہونے والی انتہائی مختصرملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے خیریت دریافت کی ۔صحافتی حلقوں میں اس حوالے سے کافی تجسس پایا جاتا تھا کہ آیا دونوں سربراہان ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے یا نہیں، تاہم آج وزیراعظم نواز شریف اور ان کے ہم منصب ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی کے مابین غیر رسمی لیکن انتہائی مختصر ملاقات ہوگئی ہے۔اس سے قبل آٹھ جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کے رہنماﺅں نے بدھ کو خطے میں وسائل کے عظیم تر انضمام کے عمل کی جانب سست رفتار پیشرفت پر مایوسی کا اظہار کیا، جبکہ افغان صدر اشرف غنی نے اسے سیاسی عزم کی ناکامی قرار دیا تھا ۔اور یہ کہا جا رہا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کی رقابت جنوبی ایشیائی رہنماﺅں کی جانب سے سارک کانفرنس کے دوران کچھ معاہدوں کو حتمی شکل دینے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہے۔ہندوستانی حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے وزیراعظم نریندرا مودی سارک کانفرنس کے دوران جمعرات کی صبح اپنے پاکستانی ہم منصب سے غیررسمی بات چیت کریں، تاہم ابھی تک اس حوالے سے یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔نریندرا مودی نے بدھ کو پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ تمام سارک رہنماﺅں سے ون آن ون ملاقات کی، جبکہ دونوں اطراف کا کہنا ہے کہ پاک ہندوستان رہنماﺅں کی ملاقات ان میں سے کسی کی ‘درخواست’ پر ہی ممکن ہوسکتی ہے۔ایک ہندوستانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘سارک اپنے مقصد سے پیچھے ہٹ رہی ہے کیونکہ اس کا کام ایک ایسا ماحول تشکیل دینا ہے جہاں رہنماء آزادی سے بات چیت کرسکیں، مگر یہاں ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ‘۔مذکورہ عہدیدار کے مطابق ‘میرے خیال میں نواز شریف اور نریندرا مودی کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے تھی ‘۔تجزیہ کاروں نے سارک کی ناکامی کا الزام پاکستان اور خطے کے پاور ہاﺅس ہندوستان کے درمیان عدم اعتماد کے سر ڈالا ہے، کیونکہ ہندو قوم پرست حکومت کے قیام کے بعد سے ہندوستان نے اپنے پڑوسی ملک کے حوالے سے زیادہ جارحانہ موقف کو اپنایا ہے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق پاک ہندوستان رہنماﺅں کے درمیان ‘واضح سرد مہری’ نظر آتی ہے جنھوں نے بدھ کو ایک دوسرے سے مصافحہ تک نہیں کیا، جبکہ وہ چار گھنٹے تک ایک دوسرے کے قریب ہی بیٹھے رہے۔سارک رہنماﺅں کو توقع تھی کہ شاہراﺅں، ریل اور بجلی کی لائنوں کے ذریعے ایک دوسرے کو منسلک کرنے کے معاہدوں کو حتمی شکل دی جاسکے گی جس کے بارے میں کچھ حکام کا کہنا تھا کہ یہ تجویز پاکستان نے پیش کی تھی۔جبکہ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق رہنماﺅں کے اندر یہ خوف پایا جاتا ہے کہ ‘ یہ ایک اور بے سود سارک کانفرنس ثابت ہوگی’۔اخبار نے اپنے اداریے میں کہا ‘یہ صرف پاکستان نہیں جو سارک کانفرنسز کو خراب کرتا ہے بلکہ ہندوستان نے بھی خطے میں گروپنگ کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا ‘۔اخبار کے مطابق ‘ دیگر ممالک کے رہنماء سارک میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان چلنے والے تنازعات سے بیزار آچکے ہیں’۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رقابت اور ناقص اسٹرکچر کے باعث سارک ممالک کے درمیان تجارت کی شرح بہت کم ہے۔سارک ممالک کی باہمی تجارت کی شرح 2008 میں 140 ملین اور 2012 میں 878 ملین ڈالرز تھی تاہم یہ خطے کی مجموعی تجارت کے پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*