آئندہ انتخابات میں بائیو میٹرک سسٹم استعمال کیا جائے گا

 ectionommisionpakistan

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئندہ عام انتخابات میں ریٹرنگ افسر ماتحت عدلیہ سے لینے کی بجائے بیووکریسی سے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے بائیو میٹرک سسٹم جلد قائم کرنے کی ہدایت کر دی ہے

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئندہ عام انتخابات میں ریٹرنگ افسر ماتحت عدلیہ سے لینے کی بجائے بیووکریسی سے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے این اے 149 کے ضمنی انتخابات کے لئے ریجنل الیکشن کمشنر کو ریٹرنگ افسر مقرر کیا ہے تاہم ملک بھر میں ریجنل افسروں کی تعداد 200 سے زائد نہیں ہے اور عام انتخابات میں ملک بھر سے 12 سو سے 15 سو کے درمیان ریٹرنگ افسروں کا تقرر کیا جاتا ہے جس کے لئے بیوروکریسی سے ریٹرنگ افسر واحد آپشن ہے۔ الیکشن کمیشن حکام کے مطابق کے پی کے میں بائیو میٹرک سسٹم کے تحت انتخابات کرانے کے لئے قانون سازی ضروری ہے اور کے پی کے حکام کو بائیو میٹرک سسٹم جلد قائم کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
اجلاس میں پی سی ایس آئی آر کی جانب سے مقناطیسی سیاہی سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 9 کروڑ روپے کی لاگت سے مقناطیسی سیاہی کے ساڑھے چار ہزار پیڈ تیار کئے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مقناطیسی سیاہی کی ناکامی کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مقناطیسی سیاہی نادرا کا آئیڈیا تھا۔ نادرا کا کہنا ہے کہ مقناطیسی سیاہی تیار کرنا پی سی ایس آئی آر کا کام تھا جبکہ پی سی ایس آئی آر کا کہنا ہے کہ نادار نے مقناطیسی سیاہی کی منظوری دی تھی۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*