نیلوفر کا خطرہ ٹلتا ہوا، سائن بورڈز سے ہلاکتوں کا خدشہ موجود


سمندری طوفان نیلوفر نے اپنا رخ تبدیل کرلیا ہے

0,,17985716_303,00

لیکن اب بھی کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر اخلاق جمیل کے مطابق سمندری طوفان کا زور ٹوٹ چکا ہے اور کراچی کیلئے کوئی خطرے کی بات نہیں رہی۔ نیلوفر طوفان کراچی سے چند سو کلو میٹر دو رہ گیا ہے تاہم شدت میں کمی کے باعث شہر میں پچیس سے تیس ملی میٹر بارش ہوسکتی ہے۔

شہری انتظامیہ کے مطابق سمندری طوفان سے بچاؤ کے تمام تر حفاظتی اقدامات کرلیے گئے ہیں۔ نہ صرف کراچی بلکہ اندرون سندھ بھی ساحل کے قریب آباد گوٹھوں کو خالی کراکے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے کراچی میں مبارک ولیج کی آبادی ساحل سے انتہائی قریب ہے۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی مصطفٰی جمال قاضی کہتے ہیں کہ انتظامیہ کو مبارک ولیج کے رہائشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جسکی وجہ مکینوں کے عقائد ہیں لیکن پھر بھی انتظامیہ نے کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے ٹرانسپورٹ سمیت تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔

کراچی کے برساتی نالوں میں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر ہیں اور مون سون سیزن میں ان کی صفائی کے دعٰووں کے باوجود عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ڈپٹی کمشنر مصطفٰی جمال اعتراف کرتے ہیں کہ نالوں کی صفائی مطلوبہ سطح پر نہیں ہوئی مگر وہ اسکی وجہ فنڈز کی کمی بتاتے ہیں۔

0,,17985716_303,00

شدید بارش کی صورت میں دوسرا بڑا مسئلہ شہر میں جا بجا پھیلے سائن بورڈز ہے

کراچی کی انتظامیہ کو شدید بارش کی صورت میں دوسرا بڑا مسئلہ شہر میں جا بجا پھیلے سائن بورڈز ہیں۔ یہ سائن بورڈ دو ہزار دس کے مون سون سیزن میں دو سو سے زائد افراد کی اموات کا سبب بنے تھے۔ انتطامیہ اس حوالے سے متحرک تو ہوئی ہے لیکن کئی سال تک غیر معیاری سائن بورڈز کے خلاف مہم نہ چلائے جانے کے باعث ان کی تعداد اتنی زیادہ ہوچکی ہے کہ محدود عملے کے ساتھ ان سائن بورڈز کو فوری طور سے ہٹانا ممکن نظر نہیں آتا۔ انتظامیہ نے سائن بورڈ مالکان کو رضاکارانہ طور پر بورڈز ہٹانے کی ہدایت کی اور خالی بورڈ عملے کو ہٹانے کا حکم دیا ہے مگر عملے کی کام چوری کے سبب بورڈز ہٹانے کی بجائے صرف پینا فلیکس کو پھاڑنے پر ہی اکتفا کیا جارہا ہے کہ شاید اسطرح تیز ہوا سے سائن بورڈ کے گرنے کا خطرہ کم ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ شہری سائن بورڈ کے خلاف جاری مہم سے مطمئن نظر نہیں آتے

لیکن شہریوں کی بھی عجیب منطق ہے ، شہری انتظامیہ کی لاپرواہی کارونا روتے ہیں مگر انتظامیہ کی تمام تر ہدایات کو نظر انداز کرکے جوق درجوق ساحل کا رخ کررہے ہیں۔ پولیس اہلکار اور انتطامیہ کبھی شہریوں کو ساحل کی طرف جانے سے سختی سے روکتی ہے اور کبھی منت سماجت سے انہیں سمجھا بجھاکر لوٹنے پر راضی کرتے دکھائی دیتی ہے۔

0,,17985716_303,00

ماہی گیروں کی اکثریت ساحل پر لوٹ آئی ہے

لبتہ سمندری طوفان نیلوفر کے باعث کھلے سمندر میں شکار کے لیے جانے والے ماہی گیروں کی اکثریت ساحل پر لوٹ آئی ہے۔ محکمہ فشریز کے ترجمان سلیمان سندھی کہتے ہیں کہ شکار کے لیے جانے والی پچیانوے فیصد لانچیں واپس آچکی ہیں ۔ یہ لانچیں فش ہاربر کے علاوہ کیٹی بندر، ابراہیم حیدری اور بلوچستان کی ساحلی پٹی پر کھڑی ہیں۔

فش ہاربر پر کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی سینٹر بھی قائم کردیا گیا ہے جسمیں ڈاکٹرز پیرا میڈیکل اسٹاف اور ادویات کا ذخیرہ موجود ہے کیونکہ ماہی گیروں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*