ملکی صورتحال اور اقلیتوں کا کردار

عنوان: ملکی صورتحال اور اقلیتوں کا کردار
تحریر:جولیس ایم بھٹی

قارئین کرام اپنا مختصر تعارف کچھ اسطرح کرواتا چلوں کہ میں ایک پاکستانی ہوں میرا تعلق مسیحی قوم سے ہے اور معاشرے میں ایک ادنیٰ سا سیاسی کارکن ہونے کی پہچان رکھتا ہوں اور سیاسی کارکن ہونے کے باعث اپنی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی قوم کے مطالبات کے حصول کی تگ ودو میں مصروف عمل رہتا ہوں میں کوئی لکھاری تو نہیں جو الفاظ کی مالا پرو سکوں لیکن آج اس فورم سے اپنی پاکستانی قوم کے ساتھ ساتھ مسیحی قوم سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں سب سے پہلے اپنے مطالبات سے آگاہ کرتا چلوں کہ ہمارے دو اہم مطالبات ہیں کہ ہمیں پاکستانی شہری ہونے کے ناطے برابری کی سطح پر حقوق دئیے جائیں اور ساتھ ہمیں انتخابات میں دوہرے ووٹ کا حق دیا جائے اور دوہرے ووٹ کا مطلب یہ ہے کہ عام انتخابات میں ہمیں اپنے اقلیتی نمائندے اپنے ووٹ کے زریعے چننے کا حق دیا جائے تاکہ من پسند سلیکشن کا خاتمہ ہو سکے اور اقلیتی نمائندے عوامی رائے سے منتخب ہوکر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ سکیں یہ تو تھے ہمارے مطالبات لیکن موجودہ ملکی صورتحال میں ملک پاکستان کو بہت سی اندرونی اور بیرونی مشکلات کا سامنا ہے جس کے پیش نظر ہماری مکمل زمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنی پاک افواج اور ملک کی متاثرہ عوام کے شانہ بشانہ اپنی بساط کے عین مطابق اپنا کردار ادا کریں کیونکہ پاکستانی شہری ہونے کا عملی نمونہ ظاہر کرنا ازحد ضروری ہے یا یوں کہ لیجیے کہ ان تمام زمہ داریوں کو پورا کئے بغیر پاکستانی شہری کہلانا بے سود ہوگا میں اپنی غیور مسیحی قوم سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ بغیر تفریق رنگ و نسل اور عقیدئہ و مذہب ہمیں سیلاب زدگان کی امداد میں اپنے دل اور باہیں کشادہ کرنی ہوگی اور اپنے پاکستانی بھائیوںکے ساتھ اپنوں کی طرح کا سلوک کرنا ہوگا یہ ہماری اخلاقی زمہ داری ہے بلکہ میں یہ کہوں گا کہ اسے خو د پر فرض سمجھ کر ادا کرنا ہوگا آپ ان سیاسی پردھانوں کاہی جائزہ لے لیں جو ہمیں تفریق اور تعصب کی طرف لیجاتے ہیں یہ کن کے دُم چھلے ہیں یہی لوگ ہماری تباہی اور نقصان کے اصل زمہ دار ہیں یہ دورنگے لوگ آپ کے درمیان آکر آپکے مطالبات کو دہرا کر داد وصول کرتے ہیں ان کا اصل روپ گذشتہ روز ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے میں سامنے آیا جہاں خود ساختہ مسیحا ہاتھ باندھے ہوئے کھڑے تھے جیسے ان کی قسمت کا کوئی اہم فیصلہ ہونے جا رہا ہو اور کیمروں کے سامنے ہیرو بن کر اپنے فیصلے قوم پر مسلط کر رہے تھے میں نے مسیحی قوم کا نمائندہ ہونے کے باعث حکومتی اور انتظامی اداروں تک آپکے مطالبات خط کی صورت میں ارسال کر دئیے ہیں اور ان کے جواب کا منتظر ہوں میں اس کام میں خود نمائی کو برا سمجھتا ہوںاس لئے کوئی اخباری بیان یا اس طرح کی کوئی سرگرمی عمل میں نہ لائی ہے گذشتہ چند روز قبل ایک اخباری بیان میری نظر سے گذرا جس میں کہا گیا تھا کہ انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں اقلیتوں کو نمائندگی نہیں دی گئی تو میرے زہن میں یہ بات فوری طور پر آئی کہ ہم نے آج تک کوئی ایسا عمل ہی نہ کیا ہے کہ جس کے باعث ہمیں نمائندگی دی جائے بلکہ ماضی میں بہت سے ایسے بیانات دینے والے لوگ جلد ہی کسی بڑی سیاسی جماعت کا دُم چھلا بن کر ابھرے اور بہت سے اس کوشش میں مصروف عمل ہیں میںجا نتا ہوں کہ میری اس بات سے بہت سے لوگ اختلاف رکھتے ہیں اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اختلاف رائے ایک اچھی بات ہے اور سچ کہنا ہی دنیا کی
عظیم ترین عبادت ہے اور انسانیت کی خدمت اولین فریضہ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ملک میں موجود مفاد پرست سیاسی ناسوروں کو اس ملک کے سیاسی جسم سے نکال پھینکا جائے اور ملک میں موجو د کرپٹ لوگوں کا بلا تفریق فوری محاسبہ کیا جائے ان تما م باتوں سے قبل ہم سب پاکستانیوں کو یہ سوچنا ہو گا کہ ہم ملک پاکستان سے مطالبات تو کرتے ہیں لیکن کیا ہم پاکستانی شہری ہونے کا فرض ادا کررہے ہیں یا یوں کہ لیں کہ ہم ملک سے لینے کے تو خواہشمند ہیں جبکہ ہم ملک کو دے کیا رہے ہیں۔ان تمام باتوں کے ساتھ قارئین کرام سے اجزت کا طلبگار ہوں اور آپ کی طرف سے تجاویز اور آراءکا منتظررہوں گا ملکی صورتحال پر تبصرہ ہوتا رہے گا لیکن آخر میں سب پاکستانی بھائیوں سے ایک گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اندرون ملک مقیم ہیں یا بیرون ملک مقیم ہیں آپ پاکستانی ہیں اور آپ کی عزت ملک پاکستان کی عزت ہے اس کو ضرور ملحوظ خاطر رکھیں اور سیاسی رہنماو¿ں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ شارٹ کٹ میں شہرت حاصل کرنے کی بجائے اپنی پہچان خود بنائیں خواہ اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگ جائے۔

News-julius-Bhatti-
 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*