ہڈیوں کے لیے مفید غذائیں

news-1415696477-8352  ہڈیاں مضبوط کرنے میں کیلشیم اور وٹامن ڈی ان دونوں غذائی عناصر کا بنیادی کردار ہے۔ کیلشیم ہماری ہڈیاں طاقتور بناتا جبکہ وٹامن ڈی کی بدولت کیلشیم انسانی جسم میں بہ سہولت جذب ہوتا ہے۔ یہ وٹامن ہڈیوں کی نشوونما میں بھی سودمند ہے۔بچوں اور نوجوانوں کو یہ دونوں غذائی عناصر ضرور لینے چاہئیں کیونکہ تب ہڈیاں بڑھ رہی ہوتی ہیں۔ تاہم ادھیڑ عمری اور بڑھاپے میں بھی ان کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر بڑھاپے میں بیشتر مرد و زن ہڈیوں کی ایک بیماری ’’بوسیدگی استخوان‘‘ کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اس بیماری میں ہڈیاں رفتہ رفتہ نہایت کمزور ہوجاتی ہیں۔ تاہم انسان غذائوں یا ادویہ کے ذریعے وافر کیلشیم اور وٹامن ڈی لے، تو ہڈیاں جلد بھربھری نہیں ہوتیں اور یوں ان کے ٹوٹنے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ماہرین طب کے مطابق 50 سال کی عمر تک مردو زن کو روزانہ1000 ملی گرام کیلشیم جبکہ 200 عالمی یونٹوں کے وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ 50سال سے زائد عمر کے مردوزن کے لیے لازم ہے کہ وہ روزانہ1200 ملی گرام کیلشیم جبکہ400 سے 600 عالمی یونٹ وٹامن ڈی استعمال کریں۔ ذیل میں ایسی غذائوں کا ذکر ہے جن میں دونوں غذائی عناصر وافر مقدار میں ملتے ہیں۔ بازار میں ایسی گولیاں دستیاب ہیں جن میں کیلشیم اور وٹامن ڈی ہوتا ہے، تاہم ڈاکٹر غذائوں میں موجود فطری غذائی عناصر کو ترجیح دیتے ہیں۔ دہی:وٹامن ڈی کے سلسلے میں قباحت یہ ہے کہ وہ بہت کم غذائوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ وٹامن بنیادی طور پر سورج کی روشنی سے حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ کوئی انسان پندرہ بیس منٹ روزانہ دھوپ میں کھڑا ہو، تو اْسے وٹامن ڈی کی مطلوبہ مقدار مل جاتی ہے۔ مغربی ممالک میں مسئلہ یہ ہے کہ موسم سرما اور برسات کے دوران وہاں اکثر سورج نہیں نکلتا۔ چنانچہ وہاں ایسا دہی سامنے آیا ہے جس میں مصنوعی وٹامن ڈی شامل کیا جاتا ہے۔ چونکہ دہی میں قدرتاً وافر کیلشیم ہوتا ہے، لہٰذا انسانی صحت کے لیے وہ سہ آتشہ بن گیا۔ اس خاص دہی کا صرف ایک پیالہ کیلشیم کی روزانہ 30 فیصد جبکہ وٹامن ڈی کی20 فیصد ضرورت پوری کر دیتا ہے۔ ہمارے ہاں عام دستیاب دہی میں کیلشیم تو خاصا ملتا ہے، البتہ وٹامن ڈی کی بہت کم مقدار ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ سوچ کر دہی نہ کھائیے کہ وہ وٹامن ڈی کی مطلوبہ ضرورت پوری کر دے گا۔ دودھ:دنیا کی تمام غذائوں میں سب سے زیادہ کیلشیم دودھ ہی میں ملتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ صرف ایک گلاس دودھ کیلشیم کی30 فیصد روزانہ ضرورت پوری کردیتا ہے۔ اگر یہ دودھ چکنائی سے پاک ہو، تو اچھا ہے کہ یوں انسان کو محض 90 حرارے (کیلوریز) ملتے ہیں۔ مغربی ممالک میں اب دودھ میں بھی مصنوعی وٹامن ڈی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ اسے زیادہ غذائیت بخش بنایا جاسکے۔ پنیر:پنیر دہی سے بھی زیادہ کثیف ہوتا ہے۔ اسی لیے اس میں سب سے زیادہ کیلشیم ہوتا ہے۔ اگر انسان محض15.1 اونس پنیر کھالے، تو اسے30 فیصد کیلشیم مل جاتا ہے لیکن پنیر ہضم کرنا کٹھن مرحلہ ہے، اسی لیے اسے کثیر مقدار میں کھانے کی کوشش نہ کریں۔ پنیر کی معتدل مقدار ہی فائدہ پہنچاتی ہے۔پنیر میں وٹامن ڈی کی بھی معمولی مقدار ملتی ہے۔ تاہم وہ اس غذائی عنصر کی مطلوبہ ضرورت پوری نہیں کر سکتا۔ لہٰذا وٹامن ڈی کے معاملے میں محض پنیر پر بھروسہ مت کریں۔ مچھلی: سالمن، سارڈین اور ٹونا وہ سمندری مچھلیاں ہیں جن میں وٹامن ڈی کثیر مقدار میں ملتا ہے، تاہم پاکستانی سمندروں میں یہ مچھلیاں کم ہی ملتی ہیں۔ گو ڈبوں میں دستیاب ہیں لیکن مہنگا ہونے کے باعث امیر لوگ ہی انھیں کھا سکتے ہیں۔ دیگر مچھلیوں میں وٹامن ڈی اتنا زیادہ نہیں پایا جاتا۔ انڈے:گو ایک انڈہ ہمیں صرف ۶ فیصد وٹامن ڈی مہیا کرتا ہے، لیکن یہ ایک عام دستیاب غذاہے۔ پھر اسے پکانا بھی آسان ہے۔ واضح رہے کہ وٹامن ڈی زردی میں ہوتا ہے، لہٰذا جو مردوزن دو تین انڈے کھانا چاہیں، وہ سفیدی نہ کھائیں۔ اس طرح انھیں کم حرارے ملیں گے۔ ساگ:سبزیوں میں کیلشیم سب سے زیادہ ساگ میں ملتا ہے۔ چنانچہ جو افراد دودھ پینے کے شوقین نہیں، وہ ساگ سے مطلوبہ کیلشیم حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک پیالی ساگ ہمیں 25فیصد کیلشیم فراہم کرتا ہے نیز یہ سبزی ریشہ (فائبر)، فولاد اور وٹامن اے کی خاصی مقدار بھی رکھتی ہے۔ مالٹے کا رس:آج کل بازار میں مالٹے کے ذائقے والے ایسے ادویاتی رس دستیاب ہیں جن میں وٹامن سی کے علاوہ کیلشیم اور وٹامن ڈی بھی شامل ہوتا ہے۔ ان مشروبات میں وٹامن سی شامل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ غذائی عنصر بھی کیلشیم کو جسم انسانی میں جذب کراتا ہے۔ چنانچہ اس کی غذائی اہمیت بھی مسلم ہے۔ چکنائیاں جو کھانی چاہئیں:ماہرین غذائیات کا کہنا ہے کہ حراروں کی روزانہ انسانی ضرورت میں سے 20 تا30 فیصد حرارے چکنائیوں سے آنے چاہئیں۔ ایک عام انسان کو روزانہ2000 حرارے درکار ہوتے ہیں۔ گویا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ50 تا 70گرام چکنائی غذائوں سے حاصل کرے۔یہ واضح رہے کہ چکنائیوں کی 5اقسام ہیں۔ ان کا مختصر تعارف درج ذیل ہے: سیرشدہ چکنائی:ماہرین طب سیر شدہ چکنائی کو ’’بُری‘‘ چکنائی کہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انسانی جسم میں اس چکنائی کی زیادتی ہوجائے، تو انسان امراضِ قلب کا نشانہ بن جاتا ہے۔ تاہم جدید تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ بعض سیرشدہ چکنائیاں دل کی بیماریاں پیدا نہیں کرتیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان سیرشدہ چکنائیوں کو ہمارا جسم بہت جلد تحلیل کر دیتا ہے۔ چنانچہ و] ]>

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*