پاکستان میں فالج سے روزانہ 400 افراد کی موت

141002110104_gp_closure_doctor_aging

امریکا اور یورپ میں پینتالیس سال سے کم عمر کے لوگوں میں فالج کی شرح دس فیصد ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح بیس سے پچیس فیصد ہے

پاکستان میں فالج کے علاج کے لیے کام کرنے والی پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں فالج سے روزانہ کم از کم چار سو افراد کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس مرض میں ایک اور رجحان سامنے آیا ہے کہ خواتین خصوصاً جوان خواتین اِس مرض سے بڑی تعداد میں متاثر ہو رہی ہیں۔

پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کی چھٹی بڑی آبادی والا ملک ہے جس میں دو فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔

یہاں تینتیس فیصد آبادی کی عمر پینتالیس سال سے اوپر ہے جو کہ ہائپرٹینشن یا ذیابیطس کا شکار ہے یا پھر تمباکو نوشی کی عادت میں مبتلا ہے اور یہی عادت یا علامات سٹروک کے خطرے کو بڑھا دیتی ہیں۔

پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی کے صدر اور آغا خان میڈیکل یونیورسٹی میں پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نے بتایا کہ ’امریکا اور یورپ میں پینتالیس سال سے کم عمر کے لوگوں میں فالج کی شرح دس فیصد ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح بیس سے پچیس فیصد ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے ورلڈ سٹروک آرگنائزیشن نے اِس سال کو خواتین میں سٹروک سے منسوب کیا ہے اور اس پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

خواتین میں اِس مرض کی وجہ یہ ہے کہ خواتین میں تمباکو کا استعمال بڑھ رہا ہے گو کہ خواتین میں تمباکو نوشی کی شرح تین فیصد ہے لیکن دیگر صورتوں میں اِس کے استعمال مثلاً شیشے پینا اور پان کھانے کی صورت میں خواتین تمباکو کو زیادہ مقدار میں استعمال کر کے فالج کا کم عمری ہی میں شکار ہو رہی ہیں۔

smoking_

اکثر سگریٹ نوشی اور ہائی بلڈ پریشر سٹروک کی وجہ بنتے ہیں

پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی کے صدر محمد واسع کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہر دس سیکنڈ میں ایک انسان فالج کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔ اِس مرض میں شریانوں میں خون کا لوتھڑا جم جانے سے جب خون کا دباؤ بڑھتا ہے تو مریض پر فالج کا حملہ ہوتا ہے اور ایک صحت مند انسان فوری طور پر مفلوج ہو کر بستر سے لگ جاتا ہے۔

پاکستان میں دیگر بیماریوں کے مقابلے میں فالج سے ہونی والی اموات کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر واسع کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ اموات ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہوتی ہیں اُس کے بعد فالج اور تیسرے نمبر پر کینسر سے لیکن ترقی پزیر ممالک میں زیادہ تر اموات فالج کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اگر ہم معذوری کے تناظر میں دیکھیں کہ وہ بیماریاں جن سے معذوری ہوتی ہے تو اُن میں فالج اول نمبر پر ہے اور بیماری اور معذوری دونوں کے تناظر میں فالج دنیا بھر میں سب سے زیادہ خطرناک مرض ہے۔

سٹروک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشینی دور میں جسمانی مشقت نہ کرنے والے لوگ جب ورزش نہیں کرتے اور ایک جامد قسم کی زندگی گزارتے ہیں تو یہ فالج کے لیے آسان ہدف ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ لوگ زیادہ چکنائی والے گھی کا استعمال بھی کرتے ہیں جو اس بیماری کی وجوہات میں شامل ہیں۔

سٹروک کے نوے فیصد سےذیادہ کیسز میں چار اہم علامات ظاہر ہوتی ہیں جن میں بازو اور ٹانگوں میں شدید کمزوری محسوس ہونا، زبان میں لڑکھڑاہٹ یا بول نہ پانا، دیکھ نہ پانا یا بے ہوشی شامل ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*