وائی فائی کے اثرات ،نئی بیماری دریافت

news-1416998774-7913انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے وائی فائی کا استعمال اب ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، چاہے گھر ہو یا دفتر، حتیٰ کہ سفر کے دوران بھی وائی فائی کااستعمال جاری رہتاہے ۔مگر اب یہ تشویشناک بات سامنے آ گئی ہے کہ وائی فائی کی لہریں بے ضرر نہیں ہیں ۔برطانیہ میں نوجوان طلباءپر کی گئی تحقیق میںثابت ہوا کہ وائی فائی کی لہروں کی جودگی میں ان کی توجہ قائم رکھنے کے لیے صلاحیت کم ہوگئی ۔ اسی طرح امریکن سوسائٹی فار ریپروڈکٹو میڈیسن کی تحقیق کے مطابق یہ لہریں نوجوان خواتین میں یاداشت کو متاثر کرتی ہیں۔برطانیہ میں ڈاکٹرپہلی دفعہ اس بات کوسنجیدگی سے لے رہے ہیں کہ کچھ مریض دعویٰ کرتے ہیں کہ وائی فائی کی موجودگی میں شدید سرد ،سستی ،متلی،جی گھبرانا اوردیگر اسی ہی علامات محسوس ہوتی ہیں ۔کچھ مریضوں نے اسے دماغ کی رسولی کا سبب بھی قرار دیا ہے۔ڈاکٹروں نے اس کیفیت کو الیکٹرومگنیٹک ہائپر سینسٹیوٹی انٹالرنس سنڈروم (ای اےچ اےس) کا نام دیاہے۔میری کولس نامی 63سالہ خاتون کی ای ایچ ایس بیماری تو خبروں کا موضوع بھی بن چکی ہیں۔ انہیں وائی فائی لہروں سے اس قدر سخت الرجی کا سامنا کرناپڑتاہے کہ انہوں نے گھر سے وائی فائی کاخاتمہ کر دیاہے اورباہر جانے کے لیے خصوصی لباس استعمال کرتی ہیں۔اگرچہ سائنسدانوں نے تاحال وائی فائی کی لہروں کے بار ے میں باقاعدہ طور پر کوئی وارننگ جاری نہیں کی لیکن اکثر ماہرین یہ ہدایت کرتے ہیں کہ وائی فائی راﺅٹر سے کم ازکم ایک میٹر دور بیٹھیں اورلیپ ٹاپ کو گود میں رکھ کر استعمال نہ کریں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*