صوبہ خیبرپختونخواہ میں ایڈز کے مرض کی بنیادی وجوہات

kpk aids, news, diplomacy pakistan

21st, March, 2014

پارہ چنار(شبیر حسین طوری سے) صوبہ خیبر پختو نخواہ میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد قریب 1700سے بھی زیادہ ہے ۔ اس عارضے میں مبتلا زیادہ تر وہ افراد ہیں جو ملک سے باہرمزدوری کی تلاش میں کاروبار کرتے رہے ہیں۔ایڈز کی روک تھام کے لئے دنیا بھر میں آئے روزنئے سے نئے تجربات کئے جاتے ہیں، تاہم اب تک اس مرض کے علاج میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس مرض سے بچاو ¿ احتیاط کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ پاکستان میں اس وقت تقریبا اس مرض میں مبتلاافراد ایک لاکھ سے تجاوزکر چکے ہیںجو لوگ اس مرض میں مرد، خواتین اور بچے سب شامل ہیں۔

صوبہ خیبر پختو نخواہ میں اس مرض کے روک تھام کےلئے عالمی اداروں کی مدد سے پشاور اور کوہاٹ میں فیملی کیئر سنٹر کے نام سے دو ادارے قائم کئے گئے ہیں، جن کا کام لوگوں کو اگاہی دینے کے ساتھ ساتھ اس مرض میں مبتلا افرادکی دیکھ بھال کر نا اور ان کو مفت ادویات فراہم کرنا ہوتا ہے ۔ پشاور کے فیملی کیئر سنٹر میں ایچ آئی وی فیزیشن کے عہدے پر کام کرنے والے ڈاکٹر ادریس کا کہنا ہے کہ خیبر پختو نخواہ میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد سترہ سو تک ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن میں اس مرض کے وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے ۔ڈاکٹرادریس کا کہنا ہے کہ اور بھی بہت سے لوگوں میں یہ وائرس موجود ہیں، لیکن یا تو وہ اس سے لاعلم ہیں یا معاشرے کے خوف سے کسی کو بتانے سے کتراتے ہیں، کیونکہ اس میں مبتلا افرادست خاندان کے ساتھ تعلق ترک کردیتے ہیں، جو کہ ایک غلط طریقہ ہے ۔ ایچ آئی وی ایڈز ایک ایسی بیماری ہے جس میں اگر احتیاط نہ کی جائے تو یہ پورے خاندا ن(نسل دار نسل ) میں پھیل جاتی ہے ، یہ مرد سے عورت اور عورت سے پیدا ہونے والے بچے میں منتقل ہوجاتی ہے ۔ اس مرض کے پورے خاندان میں پھیلنے کے بارے میں ڈاکٹر ادریس کا کہنا ہے کہ”اس بیماری کی سب سے مشکل بات یہ ہے کہ دس سال بعد اس مرض کا پتہ چلتاہے اور اس کے وائرس خود کو ظاہر کرتے ہیں، تو اس دوران مریض بے خبر ہوتا ہے اور وہ لا علمی میں اس دوران شادی بھی کر لیتا ہے یا اکثر کیسز میں خون کا عطیہ بھی دیتارہتاہے جس سے یہ بیماری پھیل جاتی ہے ۔ایچ آئی وی کا کوئی علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا، البتہ اگر اس میں مبتلا مریض با قاعدگی سے دوایوں کا استعمال کریں تو کسی حد تک اس کو بڑھنے سے روکاجاسکتا ہے ۔

ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ تقریباتین سے پانچ مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں، ان میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو دوسرے ممالک میں محنت مزدوری کرنے گئے ہوتے ہیں اور یہ لوگ اس مرض کی وجہ سے ان ممالک سے جبراَ نکال دیئے جاتے ہیں، اس بارے میں انکا مزید کہنا ہے ۔”ہمارے جتنے بھی لوگ غیرممالک میں کا م کرتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کا تعلق غریب طبقے سے ہوتا ہے ، یہ لوگ کئی سالوں تک ملک نہیں آتے ، یہ لوگ اپنی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کےلئے ان خواتین کے پاس جاتے ہیں جو جنسی کاروبارکرتی ہیں، غربت کے مارے یہ افراد ان خواتین کے پاس جاتے ہیں جن کے ریٹ کم ہوتے ہیں، اور جن کے ریٹ کم ہونگے تو ان کے کسٹمر بھی زیادہ ہونگے ، تو اس طرح جب بعد میں ان کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں تو وہ مثبت نکلتے ہیں اور پھر ان کو ڈیپورٹ کیا جاتا ہے ، اور واپس آکر یہ لوگ کسی کو بھی نہیں بتاتے ۔“

 ایچ آئی وی ایڈز کا وائرس جنسی تعلق قائم کرنے سے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتا ہے اور اس کے ظاہر ہونے کے بعد لوگ امید کا دامن چھوڑ دیتے ہیں، لیکن ڈاکٹر ادریس کے مطابق اگر اس قسم کے لوگ ادویات کا درست استعمال کریں تو وہ نا صرف اچھی زندگی گزار سکتے ہیں بلکہ ایڈز میں مبتلا جوڑے صحت مند بچے بھی پیدا کر سکتے ہیں، اس بارے میں انہوں نے مزید بتایا،” اگر دونوں میں یہ بیماری ہے اور ان کی خواہش ہے کہ ان کے بچے ہوں، کیونکہ یہ ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے ، تو یہ بالکل ممکن ہے ، ہم والدین کو میڈیسن دیتے ہیں اور جب بچہ پیدا ہوتے ہے تو ا ±سے بھی ڈیڑھ سال تک میڈیسن دی جاتی ہے ۔ ابھی تک ہمارے ہاں35 بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔ ان میں سے کسی میں بھی اس وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔“

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*