حاطو شاش کی تاریخ اور اس کے اسرار و رموز

2345416226hattusas1

اناطولیہ کے علاقے میں واقع ضلع چوروم ہزاروں سالوں سے تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا کہ جہاں عہد روم سے وابستہ قبریں ، مساجد اور تاریخی مقامات یہاں کے ثقافتی ورثے میں شمار ہوتے ہیں۔ چوروم کی تحصیل بوعاز قلعے میں قدیم ترین تہذیب کے شاہکارحطو شاش کے نام سے مشہور ہیں جو کہ حطیطی ریاست کا صدر مقام رہا تھا ۔علاقے کی تاریخی مصری تہذیب جتنی پرانی بتائی جاتی ہے ۔ دو ہزار سال قبل مسیح کے دوران اناطولیہ میں آکر آباد ہونے والی حطیطی قوم نے یہاں پر ایک پہلی منظم ریاست کی بنیاد ڈالتے ہوئے علاقے کو تجارتی ،ثقافتی اور فنی اعتبار سے نمایاں مقام دلوایا ۔ سن انیس سو چھیاسی سے اس علاقے کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
حطو شاش میں کھدائی کا کام انیس ویں صدی سے بدستور جاری ہے کہ جہاں سے ملنے والے نوادرات اہم ترین پرانی تہاذیب کے بارے میں دور جدید کو معلومات فراہم کرنے کا وسیلہ بن رہے ہیں۔ ان نوادرات میں کچھ ایسے کتبے بھی شامل ہیں کہ جن پر درج عبارتوں سے ہمیں حطیطی اور مصری قوموں کے درمیان جنگوں کا بھی پتہ چلتا ہے جن میں جنگ قادیش بھی شامل ہے ۔ان عبارتوں کی ایک نقل نیو یارک میں واقع اقوام متحدہ کی مرکزی عمارت کی دیوار پر بھی موجود ہے ۔

صدائے ترکی سے آپ صحت و سیاحت نامی پروگرام سن رہے ہیں جس میں ہم آپ کو ضلع چوروم اور یہاں آباد ہونے والی قدیم ترین حطیطی قوم کے بارےمیں بتا رہے ہیں۔ حاطو شاش کا تاریخی شہر حطیطی دور کے سنہرے دور کا گواہ رہا ہے کہ جہاں موجود معبد ، شاہی محلات اور قلعے تاحال قائم ہیں۔ حاطو شاش کے تاریخی مقامات میں یازلیک قایا کے معبد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ جس میں نوے سے زائد دیوی دیوتاوں ،جانوروں اور خیالی تصورات کی شبیہات پتھروں پر کندی کی گئی ہیں۔ اس جگہ پر پرانے زمانے میں مذہبی تہوار اور نئے سال سمیت موسم بہار کی آمد پر بعض تقریبات بھی منعقد کی جاتی رہیں۔

Hattusas

چوروم کے دیگر تاریخی مقامات میں آلاجہ ہویوک کا عجائب خانہ بھی موجود ہے کہ جو شہر سے پینتالیس کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے جمہوریت کے ابتدائی ایام میں یہاں کھدائی کا کام شروع کیا گیا کہ جہاں سے قدیم تنج دور اور حطیطیوں سے وابستہ چار مختلف ادوار کے تاریخی پس منظر کو دن کی روشنی میں نکالا گیا ۔اس کے علاوہ یہاں سے تیرہ مختلف حکمرانوں کی قبریں ، آرائش و زیبائش کی اشیا ،جنگی آلات بھی دریافت کیے گئے ہیں۔
حاطو شاش اور آلاجا ہویوک سے نکالے جانے والے ان تمام نایاب اور قیمتی نوادرات کو چوروم اور انقرہ کے عجائب خانوں میں نمائش کےلیے رکھا گیا ہے۔
اناطولیہ کی قدیم ترین تہاذِیب میں شمار حطیطی ریاست کا صدر مقام یہ شہر چوروم بیک وقت اپنے گرم پانی کے چشموں کی وجہ سے بھی کافی مشہور ہے ۔
چوروم میں سب سے مشہور فیگانی گرم پانی کا چشمہ ہے جو کہ شہر سے اڑھتالیس کلومیٹر دور مجید اوزو نامی تحصیل سے ملحقہ دیہات فیگانی میں واقع ہے ۔ یہ چشمہ حطیطی اور رومیوں کے دور سے استعمال ہوتا آرہا ہے کہ جس میں سوڈیئم بائی کاربونیٹ اور میگنیشئیم کی وافر مقدار شامل ہے ۔اس پانی کا درجہ حرارت پینتیس ڈگری سینٹی گریڈ کے لگ بھگ ہے کہ جو نہانے اور پینے کے قابل ہے ۔ اس گرم پانی کا چشمہ جوڑوں کے درد اور دل کی بیماریوں میں مفید ہے ۔
ماہرین کے مطابق ، یہاں کا پانی پینے سے معدے کی اور مثانے کی بعض بیماریوں میں فائدہ پہنچتا ہے۔
صدائے ترکی سے آپ نے پروگرام صحت و سیاحت سنا جس میں ہم نے آپ کو ضلع چوروم اور اس کی تحصیل بوعاز قلعے میں واقع حاطو شاش کے تاریخی شہر اور فیگانی کے گرم پانی کے چشمے کے بارے میں بتایا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*